واشنگٹن/بیجنگ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، روس یوکرین جنگ اور ٹک ٹاک معاہدے سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے گفتگو کو "نتیجہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی اگلی ملاقات نومبر میں جنوبی کوریا میں ہونے والے اے پیک فورم کے موقع پر ہوگی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آئندہ سال کے آغاز میں ان کا چین کا دورہ طے پایا ہے جبکہ چینی صدر بھی مناسب وقت پر امریکہ کا دورہ کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ٹک ٹاک ڈیل کی منظوری کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے اور اس پر چینی صدر سے دوبارہ بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس اور یوکرین کی جنگ کا خاتمہ ضروری ہے اور اس حوالے سے چین کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، چینی صدر شی جن پنگ نے گفتگو کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین ٹک ٹاک سمیت تمام کارپوریٹ معاملات میں مارکیٹ کے اصولوں اور ملکی قوانین کا احترام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو یکطرفہ تجارتی اقدامات اور ٹیرف سے گریز کرنا چاہیے تاکہ عالمی تجارتی نظام کو استحکام ملے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم ہیں، اور باہمی احترام اور مفادات کے توازن سے ہی دیرپا تعلقات ممکن ہیں۔




