فیشن

’سردار جی تھری‘ پر پابندی بھارت کا نقصان ہے، پاکستان کا نہیں: جاوید اختر

بھارتی لکھاری و نغمہ نگار جاوید اختر نے بھارتی پنجابی فلم ’سردار جی تھری‘کی بھارت میں نمائش پر پابندی کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس پابندی سے پاکستان کا نہیں بلکہ بھارت کا پیسہ ڈوبے گا۔

حال ہی میں این ڈی ٹی وی کے پروگرام ’کریئیٹرز منچ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید اختر نے فلم کی بھارت میں پابندی پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ فلم ’سردار جی تھری‘ کی شوٹنگ کافی وقت پہلے ہوئی تھی، اس وقت حالات مختلف تھے اور اب حالات بدل چکے ہیں۔

جاوید اختر کے مطابق، بھارت میں فلم کی نمائش پر پابندی لگانے سے نقصان پاکستان کا نہیں بلکہ بھارت کا ہوگا، تو پھر ایسی پابندی کا کیا فائدہ.

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں حکومت اور سنسر بورڈ کو اس معاملے کو ہمدردی کے ساتھ دیکھنا چاہیے، چونکہ یہ فلم پہلے ہی بن چکی ہے، لہٰذا اسے بھارت میں ریلیز کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ہانیہ عامر اور بھارتی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’سردار جی تھری‘ 27 جون کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی۔

فلم کو بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں ریلیز کیا گیا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی کے باعث یہ فلم بھارت میں ریلیز نہ ہو سکی۔

فلم کو بھارتی فلم سازوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور فلم کے پروڈیوسرز اور دلجیت دوسانجھ کے آئندہ تمام پراجیکٹس کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ فلم پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، فلم نے ریلیز کے پہلے ہی دن پاکستان سے تقریباً 3 کروڑ روپے کا بزنس کر لیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button