آزاد کشمیر : آزاد کشمیر میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے وفاقی وزراء اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے، جس کے بعد مظفرآباد کی سڑکیں کھل گئیں اور مظاہرین گھروں کو واپس لوٹ گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی نے 25 نکات پر اتفاق کیا، جن میں پرتشدد واقعات پر عدالتی کمیشن بنانے، جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضہ اور سرکاری نوکری کی فراہمی، زخمیوں کو 10 لاکھ روپے معاوضہ، اور بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے کی منظوری شامل ہے۔
مزید برآں، مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈ قائم کیے جائیں گے، متاثرہ خاندانوں کو 30 دن میں زمین کا قبضہ دیا جائے گا، اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی۔ گرفتار مظاہرین کو 2 اور 3 اکتوبر کو رہا کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تمام مطالبات خوش اسلوبی سے طے پا گئے اور کشمیری عوام کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔




