سندھ حکومت نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے نئے جرمانے اور ڈی میرٹ پوائنٹس کا نظام نافذ کر دیا ہے تاکہ روڈ سیفٹی کو بہتر بنایا جا سکے اور شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اوور اسپیڈنگ، سگنل توڑنے، غلط سمت میں گاڑی چلانے، اوورلوڈنگ اور بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے جیسی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ نئی پالیسی کے تحت موٹر سائیکل، کار، پبلک سروس وہیکل اور ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے جرمانے بڑھا دیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق اوور اسپیڈنگ پر موٹر سائیکل کے لیے ۵ ہزار روپے، کار کے لیے ۱۵ ہزار روپے اور ہیوی ٹرانسپورٹ کے لیے ۲۰ ہزار روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ اس پر ۸ ڈی میرٹ پوائنٹس بھی عائد کیے جائیں گے۔ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے پر ۵۰ ہزار روپے تک جرمانہ اور ۶ ڈی میرٹ پوائنٹس دئیے جائیں گے۔ لاپرواہ ڈرائیونگ پر ۲۵ ہزار روپے جرمانہ اور ۸ ڈی میرٹ پوائنٹس کا نفاذ ہوگا۔
اس کے علاوہ ون وہیلنگ، بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے، دھندلے شیشے استعمال کرنے، غلط لین میں گاڑی چلانے اور چھت پر مسافروں کو بٹھانے پر بھی سخت سزائیں متعارف کرائی گئی ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ اقدامات محض جرمانے وصول کرنے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سگنل توڑنا، اوور اسپیڈنگ اور ون وہیلنگ معمولی غلطیاں نہیں بلکہ جان لیوا حرکتیں ہیں، جن کی وجہ سے نہ صرف ڈرائیور بلکہ دیگر افراد بھی خطرے میں آ جاتے ہیں۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کے لائسنس معطل یا منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔




