اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے معافی نہ مانگنے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پارٹی عزتِ نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
شیری رحمان نے کہا کہ "معافی مانگنا کمزوری نہیں، بلکہ ظرف کی علامت ہے۔ ہم نے کبھی کسی کی تذلیل کر کے سیاسی اتحاد نہیں چلایا، لیکن حالیہ رویہ ناقابل قبول ہے۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، جو سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ "پنجاب کارڈ کھیلا جا رہا ہے، جبکہ ملک اس وقت 80 ٹریلین روپے کے قرض تلے دبا ہے۔ نفرت اور تقسیم کی سیاست نے ہمیشہ نقصان دیا ہے۔”
شیری رحمان نے سینیٹ میں کہا کہ اگر معافی نہ مانگی گئی تو یہ جان لیں کہ سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت پیپلزپارٹی ہے، اور ہم اپنی حیثیت سے بخوبی واقف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی کا مقصد متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا تھا، اور ہم چاہتے تھے کہ بے سہارا افراد امداد کے لیے مزید انتظار نہ کریں۔




