ٹیکنالوجی

میٹا کا بچوں کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر والدین کو رسائی دینے کے لیے نئے فیچرز متعارف کرانے کا اعلان

کیلیفورنیا :  انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال سے والدین کو اپنے بچوں کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر زیادہ کنٹرول فراہم کرے گی۔ فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کی آن لائن حفاظت میں اضافہ کرنا ہے۔

میٹا کے مطابق، نئے فیچرز میں والدین کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ اپنے بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی انفرادی بات چیت کو مکمل طور پر بند کر سکیں۔ تاہم، والدین چیٹ بند کرنے کے باوجود بچوں کو ملنے والا اے آئی اسسٹنٹ بند نہیں کر سکیں گے۔ یہ اسسٹنٹ بچوں کو تعلیمی مواد اور مفید معلومات فراہم کرتا رہے گا، اور اس میں بچوں کی عمر کے مطابق حفاظتی اقدامات خود بخود شامل ہوں گے۔

والدین کو یہ بھی اختیار دیا جائے گا کہ وہ مخصوص اے آئی چیٹ بوٹس کو بلاک کر سکیں، لیکن وہ چیٹس کی مکمل تفصیلات نہیں دیکھ سکیں گے۔ والدین صرف یہ معلومات حاصل کر سکیں گے کہ ان کے بچے کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں، تاکہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔

یہ تبدیلیاں میٹا کے پلیٹ فارمز پر بچوں کے حوالے سے ہونے والی تنقید کے بعد سامنے آئی ہیں، خاص طور پر ان رپورٹوں کے بعد کہ بعض اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال سے بچوں میں خودکشی کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق، امریکا اور یورپ جیسے امیر ممالک میں 70 فیصد سے زیادہ نوعمر بچے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کرتے ہیں، اور ان میں سے آدھے سے زیادہ بچے انہیں باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، میٹا نے انسٹاگرام پر نوعمر اکاؤنٹس کے لیے نئے حفاظتی اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ نوعمر اکاؤنٹس خود بخود PG-13 مواد تک محدود ہو جائیں گے، یعنی نوعمر بچے صرف وہی مواد دیکھ سکیں گے جو PG-13 فلموں میں دکھایا جاتا ہے، جن میں جنسی مواد، منشیات یا خطرناک حرکتیں شامل نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ، بچے والدین کی اجازت کے بغیر اپنی سیٹنگز میں تبدیلی نہیں کر سکیں گے، اور یہ PG-13 پابندیاں اے آئی چیٹس پر بھی لاگو ہوں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button