پنجاب کے کئی علاقے شدید سموگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان اور قصور میں فضائی آلودگی کا انڈیکس 500 تک جا پہنچا، جب کہ لاہور میں 385 اور فیصل آباد میں 337 ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق سرد موسم، کم ہوا کی رفتار اور بارش نہ ہونے کے باعث آلودگی کے اثرات بڑھ گئے ہیں۔
شہریوں میں سانس اور آنکھوں کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔ حکومت پنجاب نے انسدادِ سموگ پلان پر عملدرآمد تیز کر دیا ہے . دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، فیکٹریوں اور کوئلہ جلانے والے ہوٹلوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
محکمہ ماحولیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بچوں و بزرگوں کو گھروں کے اندر رکھیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات برقرار رہے تو نومبر میں سموگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔




