واشنگٹن:برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف میں شائع ہونے والے معروف برطانوی آئرش صحافی اور مصنف روب کریلی کے تجزیاتی مضمون کے مطابق پاکستان نے 2025 میں عالمی سیاست، بالخصوص واشنگٹن میں، ایک بار پھر خود کو ایک اہم اسٹریٹجک فریق کے طور پر منوانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف عملی شراکت، محتاط سفارتکاری اور علاقائی توازن نے پاک امریکا تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
روب کریلی لکھتے ہیں کہ ایبی گیٹ حملے کے ملزم کی گرفتاری اور فوری طور پر امریکا حوالگی نے وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے شکوک کو بڑی حد تک ختم کر دیا۔ دی ٹیلیگراف کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان اب محض بیانات کے بجائے عملی تعاون پر یقین رکھتا ہے۔
اخبار کے مطابق امریکی کانگریس سے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے کردار کا برملا اعتراف اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان بحال ہوا۔ یہ پیش رفت اس پس منظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے کہ صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں پاک امریکا تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے تھے۔
دی ٹیلیگراف لکھتا ہے کہ واشنگٹن میں بھارت کی سرگرم سفارتی لابنگ کے باوجود پاکستان اس بار اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے میں کامیاب رہا۔ پاکستان کو بہتر تجارتی ٹیرف سہولتیں ملیں، جبکہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اوول آفس تک براہِ راست رسائی ملنا ایک نمایاں سفارتی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
مضمون میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان نے غیر روایتی سفارتی اقدامات کے ذریعے وائٹ ہاؤس کی توجہ حاصل کی۔ صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کو دی ٹیلیگراف نے ایک علامتی مگر غیر معمولی اقدام قرار دیا، جسے امریکی سیاسی حلقوں میں مثبت اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔
اخبار کے مطابق امریکا کی کاؤنٹر ٹیررازم حکمتِ عملی میں داعش خراسان ایک کلیدی ہدف رہا ہے، اور اس تنظیم کے کمانڈر جعفر کی گرفتاری کو پاکستان کی جانب سے اہم عملی پیش رفت قرار دیا گیا۔ ایک سینئر پاکستانی عہدیدار کے مطابق اسی مرحلے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں حقیقی تبدیلی کا نقطۂ آغاز سمجھا جا رہا ہے، جبکہ سابق امریکی حکام نے اسے پاکستان کی سنجیدگی کا مضبوط ثبوت قرار دیا۔
دی ٹیلیگراف یہ بھی لکھتا ہے کہ پہلگام، کشمیر واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور جنگ کے خدشات حقیقی سطح پر سامنے آئے، تاہم پاکستان نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ بھارت کی جانب سے امریکی ثالثی کو مسترد کیے جانے کے باوجود پاکستان نے سفارتی رابطوں کے ذریعے واشنگٹن کو صورتحال سے آگاہ رکھا۔
جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی نجی ملاقات کو بھی مضمون میں خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق اس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں مثبت بیانات سامنے آئے، جبکہ غزہ میں جنگ بندی کے تناظر میں انہیں “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دینا دونوں ممالک کے بڑھتے اعتماد کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
مضمون کے مطابق پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں بھی خود کو ایک متوازن اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔ خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی روابط اور ایران کے ساتھ محتاط تعلقات نے پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کو اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کی پیشکش کو بھی واشنگٹن میں سنجیدگی سے لیا گیا۔
ستمبر میں چھ کھرب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر پر پاک امریکا تعاون کے ایم او یو پر دستخط کو دی ٹیلیگراف نے ایک غیر متوقع مگر اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق ان تمام عوامل نے پاکستان کو واشنگٹن میں دوبارہ ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر نمایاں کر دیا ہے، اور 2025 میں اس کی سفارتی واپسی کو عالمی مبصرین ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔




