پاکستان

دوستی، فریب اور نکاح کی امانت دھوکے اور خواہش کے درمیان: ایک فقہی، سماجی اور نسوانی تجزیہ

اسلام میں نکاح محض ایک سماجی بندھن یا قانونی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک شرعی و اخلاقی امانت ہے۔ قرآنِ کریم واضح طور پر حکم دیتا ہے:
"اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰی اَہْلِہَا” (النساء: 58)
فقہِ اسلامی کے مطابق امانت صرف مال یا جسمانی حقوق تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اعتماد، وفاداری، جذباتی دیانت اور سچائی بھی اسی دائرے میں شامل ہیں، خصوصاً ازدواجی رشتے میں۔
فقہی اصول “العِبْرَةُ لِلْمَقَاصِدِ وَالْمَعَانِي، لَا لِلْاَلْفَاظِ وَالْمَبَانِي” ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ شریعت میں کسی عمل کا حکم اس کے نام سے نہیں بلکہ نیت، مقصد اور عملی اثرات سے متعین ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی تعلق کو “دوستی” کہا جائے، مگر اس میں جھوٹ، چھپاؤ، اور شریکِ حیات سے حقیقت پوشیدہ رکھنا شامل ہو، تو وہ تعلق شرعاً خیانت کے زمرے میں آتا ہے، خواہ وہ جسمانی حدود تک نہ بھی پہنچے۔
قرآن نکاح کے مقاصد میں جس تصور کو مرکزی حیثیت دیتا ہے وہ سکون ہے:
"لِتَسْكُنُوا اِلَيْهَا” (الروم: 21)
اگر ازدواجی زندگی میں ایک فریق کو مسلسل اضطراب، بے یقینی اور ذہنی اذیت کا سامنا ہو، اور دوسرا فریق جذباتی سکون کہیں اور تلاش کرے، تو یہ نہ صرف مقصدِ نکاح کی نفی ہے بلکہ فقہی اور اخلاقی توازن کی بھی خلاف ورزی ہے۔
جدید سماجیات اس مسئلے کو ایک نئے زاویے سے دیکھتی ہے۔ سوشیالوجسٹ انتھونی گِڈنز جدید شادی کو “Pure Relationship” قرار دیتے ہیں—ایسا رشتہ جو محض سماجی کرداروں پر نہیں بلکہ جذباتی سچائی، شفافیت اور باہمی رضامندی پر قائم ہوتا ہے۔ جہاں یہ سچائی ختم ہو جائے، وہاں رشتہ ایک رسمی ڈھانچہ بن جاتا ہے، زندہ تعلق نہیں رہتا۔

اسی تناظر میں ماہرۂ عمرانیات آرلی ہوکشائلڈ عورت کے کردار کو Emotional Labor سے تعبیر کرتی ہیں—یعنی وہ غیر ادا شدہ جذباتی محنت جو عورت رشتے کو قائم رکھنے کے لیے خاموشی سے انجام دیتی ہے، جبکہ جذباتی غفلت یا انحراف کو “معمول” سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ بوجھ نہ صرف نفسیاتی ہے بلکہ سماجی ناانصافی کی ایک شکل بھی ہے۔

سوشیالوجسٹ زیگمنٹ باؤمن جدید تعلقات کو Liquid Love کہتے ہیں—ایسے رشتے جن میں جذبات تو سیال ہوتے ہیں، مگر ذمہ داری مستقل نہیں ہوتی۔ اس تناظر میں اکثر مرد جذباتی وابستگی، توجہ اور قربت چاہتے ہیں، مگر اس کے اخلاقی اور شرعی نتائج قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی سیالیت ازدواجی رشتوں میں عدم تحفظ کو جنم دیتی ہے۔

نسوانی فلسفہ اس صورتِ حال کو مزید واضح کرتا ہے۔ سیمون دی بوا کے مطابق پدرشاہی معاشروں میں عورت کو ایک خودمختار وجود (subject) کے بجائے ایک کردار یا فنکشن میں محدود کر دیا جاتا ہے—بیوی کا کام سہارا دینا، برداشت کرنا اور نظام کو برقرار رکھنا سمجھا جاتا ہے، چاہے اس کی اپنی جذباتی قیمت کچھ بھی ہو۔
فیمینسٹ مفکرہ bell hooks اس بحث کو مزید گہرائی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق پدرشاہی نظام صرف عورتوں کو ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ یہ انہیں دیانت دار، ذمہ دار اور سچائی پر مبنی محبت کرنا سکھاتا ہی نہیں۔ نتیجتاً جذباتی تعلقات کو دوستی، ذہنی صحت یا ماضی کی یادوں کے نام پر جائز بنا لیا جاتا ہے۔ ماہر ایسٹر پیرل خبردار کرتی ہیں کہ اکثر جسمانی خیانت سے پہلے جذباتی خیانت جنم لیتی ہے۔ یہ خیانت خواہش سے کم اور تنہائی، عدم توجہ اور سچ سے فرار سے زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فقہ، سماجیات اور نسوانی فکر ایک نقطے پر آ کر متفق ہو جاتی ہیں۔
فقہِ اسلامی ہمیں یہ سوالات پوچھنے کا پورا اخلاقی اور شرعی حق دیتی ہے:کیا یہ جذباتی تعلق شریکِ حیات کے علم میں ہے؟کیا یہ تعلق دل آزاری یا عدمِ تحفظ کا سبب بنتا ہے؟
کیا یہ تعلق چھپایا جاتا ہے؟اگر ان میں سے کسی ایک سوال کا جواب ہاں ہو، تو ایسا تعلق شرعی، سماجی اور اخلاقی تینوں معیاروں پر ناقابلِ قبول ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے:
عورت دوست ہونا اور عورت باز ہونا ایک چیز نہیں۔
فقہِ اسلامی میں بار بار جھوٹ، وعدہ خلافی اور خفیہ تعلقات رکھنے والا شخص فاسق الاخلاق کے زمرے میں آتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے منافق کی نشانیوں میں امانت میں خیانت کو نمایاں طور پر ذکر فرمایا (بخاری، مسلم)۔ ازدواجی زندگی میں مسلسل جذباتی دھوکہ اسی نفاقِ عملی کی صورت ہے۔

 

ہمیںPost -Feminism رومانویت کے خوش کن نعروں کے بجائے تضادات کو نام دینے کی ہمت سکھاتی ہے۔ یہ تسلیم کرتی ہے کہ ہر شادی محبت پر قائم نہیں رہتی، اور ہر جذباتی تعلق دیانت دار نہیں ہوتا۔ اصل سوال برداشت کا نہیں، سچ کا ہے.اسلام، فقہ، سماجیات اور نسوانی فکر’چاروں اس نکتے پر متفق ہیں کہ:”محبت جرم نہیں”۔
مگر جھوٹ، فریب اور دغا بازی کسی نام سے بھی جائز نہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ نکاح کو صرف عورت کی قربانی نہیں بلکہ مرد کی جذباتی، اخلاقی اور شرعی ذمہ داری کے طور پر بھی دیکھا جائے۔اور وقت آ گیا ہے کہ نسوانی شعور، فقہی بصیرت اور سماجی حقیقت ایک ساتھ کھڑے ہو کر اس سچ کو زبان دیں جو خاموشی سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

 

اک سوچ۔۔۔۔تحریر :سعدیہ مجید

نوٹ: یہ کالم نگار/بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس بارے میں ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button