اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے کے نتیجے میں شہادتوں کی تعداد بڑھ کر 32 ہو گئی ہے، جبکہ شہر کے مختلف ہسپتالوں میں 169 سے زائد زخمی تاحال زیر علاج ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے حملے کی تحقیقات میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ہے۔
خودکش بمبار کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق دہشت گرد گروہ ‘فتنہ الخوارج’ سے تھا۔انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گرد یاسر 5 ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا، جہاں اسے تخریب کاری اور خودکش حملے کی خصوصی تربیت دی گئی۔
جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آور کے مقامی سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔اس بزدلانہ کارروائی پر ملک کی سیاسی قیادت نے سخت موقف اپنایا ہے۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی استحکام کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر کے حساس علاقوں میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔




