اسلام آباد :مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی اور جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر جلد سعودی عرب اور پھر ترکیہ کا ہنگامی دورہ کریں گے، جہاں وہ خطے کی تازہ ترین صورتحال پر اہم ملاقاتیں کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ان دوروں کا محور درج ذیل نکات ہوں گے۔تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے برادر ممالک کو آگاہ کرنا۔ خطے میں جاری عارضی امن اور جنگ بندی کو طویل مدتی استحکام میں بدلنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری۔ سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کو اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے ثمرات پر اعتماد میں لینا تاکہ ایک متفقہ اسلامی موقف اپنایا جا سکے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد کی جانب سے وزیراعظم کو دی جانے والی یہ دعوت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ بڑی تبدیلیوں کی زد میں ہے، پاکستان کا سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ‘رابطہ کار’ کے طور پر ابھرنا پاکستانی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے اس دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے میں مدد ملے گی۔ سعودی اور ترک قیادت کے ساتھ وزیراعظم کی ون آن ون ملاقاتیں نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گی بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔




