واشنگٹن / اسلام آباد : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دہائیوں پر محیط کشیدگی کے خاتمے اور ایک تاریخی عالمی معاہدے کی نوید سناتے ہوئے اسلام آباد کو مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے اہم ترین مرکز قرار دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اب ایک "جامع ڈیل” کے لیے سنجیدہ ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سفارتی محاذ پر ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے اسلام آباد کو سب سے موزوں اور ‘فیورٹ’ مقام سمجھتے ہیں۔ اس بیان نے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس عالمی تنازع کے حل میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔فاکس نیوز کو انٹرویو اور وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدہ ایران کو دوبارہ استحکام اور تعمیر کا موقع دے گا، تاہم ایرانی معیشت جس حال میں ہے، اسے مکمل بحالی کے لیے کم از کم 20 سال درکار ہوں گے۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی مداخلت کی وجہ سے ایران ایٹمی طاقت نہیں بن سکا، اور امریکہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔
عالمی میڈیا کو حیرت میں ڈالتے ہوئے امریکی صدر نے ایک پراسرار اشارہ دیا ہے کہ اگلے دو روز کے دوران کوئی بہت بڑی پیش رفت ہونے والی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو خبردار کیا کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ "کچھ بڑا” ہونے والا ہے، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کو ایک باقاعدہ معاہدے کی شکل دی جا رہی ہے۔




