اوٹاوا/نئی دہلی : مودی حکومت کے زیرِ سایہ پنپنے والے جعلی ویزا مافیا اور مجرمانہ نیٹ ورکس نے بھارتی نوجوانوں کو عالمی سطح پر ذلت اور ملک بدری کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے امیگریشن قوانین میں سختی کے بعد اب ہزاروں بھارتیوں کی فوری بے دخلی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
بھارتی جریدے "دی نیو انڈین ایکسپریس” نے کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں کے حوالے سے چند پریشان کن حقائق منظرِ عام پر لائے ہیں۔ کینیڈا سے تقریباً 9 ہزار بھارتی پناہ گزینوں کو نکالا جا رہا ہے جن کے ویزا دستاویزات جعلی یا غیر قانونی پائے گئے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک اب بھارتی شہریوں کو ان کے مجرمانہ گٹھ جوڑ اور شرپسندانہ سرگرمیوں کی وجہ سے بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔بھارت میں مودی سرکار کی سرپرستی میں کام کرنے والے ویزا مافیا نے نوجوانوں سے بھاری رقوم بٹور کر انہیں بیرونِ ملک غیر قانونی قیام کے جہنم میں دھکیل دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیاں نہ صرف اندرونِ ملک روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کا امیج ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جہاں سے "غیر قانونی انسانی اسمگلنگ” اور "شرپسندی” برآمد کی جا رہی ہے۔ کینیڈا، آسٹریلیا اور کئی یورپی ممالک اب بھارتی شہریوں کی جانچ پڑتال میں غیر معمولی سختی برت رہے ہیں۔
9 ہزار بھارتیوں کی کینیڈا سے بے دخلی محض آغاز ہے۔ اگر مودی سرکار نے اپنے ملک میں موجود ویزا مافیا کے خلاف کارروائی نہ کی، تو آنے والے وقت میں مزید ہزاروں بھارتی نوجوانوں کا کیریئر اور مستقبل عالمی پابندیوں کی نذر ہو جائے گا۔




