نیویارک/ واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کا دروازہ کھولتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے جمعہ کو متوقع ہے۔ نیویارک پوسٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں، جس دوران بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
جنگ بندی اور ایرانی تجاویز صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ جنگ بندی کے عمل کو اس وقت تک طول دے رہے ہیں جب تک تہران کی جانب سے ٹھوس تجاویز سامنے نہیں آ جاتیں۔ انہوں نے اسے خطے کے لیے ایک "اچھی خبر” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا یہ دور مثبت نتائج کا حامل ہوگا۔
پاکستان کا کلیدی کردار اور عسکری تیاری امریکی صدر نے اس حساس مشن میں پاکستان کے بطور ثالث فعال کردار کی تعریف کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلام آباد دونوں فریقین کو قریب لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ تاہم، سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے امریکی افواج کو کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کا حکم بھی دے رکھا ہے، تاکہ کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
عالمی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، جہاں ایک طرف پاکستان کی ثالثی رنگ لا رہی ہے تو دوسری طرف صدر ٹرمپ نے "جنگ یا مذاکرات” کا گیند ایران کے کورٹ میں ڈال دیا ہے۔ تمام تر نظریں اب جمعہ کے روز ہونے والی ممکنہ ملاقات پر جمی ہوئی ہیں۔




