باجوڑ/اسلام آباد: افغان سرحد سے باجوڑ کے مختلف علاقوں پر کی جانے والی مسلسل بلااشتعال گولہ باری نے انسانی المیے کو جنم دے دیا ہے۔ حالیہ حملے میں 9 افراد کی شہادت کے بعد ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے فہرست جاری کر دی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے براہِ راست عام شہریوں کے گھروں پر گرے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 6 معصوم بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، جو سرحد پار سے ہونے والی اس وحشیانہ اشتعال انگیزی کا نشانہ بنے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ (مارچ اور اپریل) سے سرحد پار سے حملوں میں شدت آئی ہے۔ افغان فورسز نے باجوڑ کے سرحدی علاقوں ماموند اور سالار زئی کو مسلسل نشانہ بنایا ہے، جہاں بلااشتعال مارٹر فائرنگ کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے شہدا کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے اور علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان حدود سے سول آبادی پر ہونے والے ان بزدلانہ حملوں کا نوٹس لیا جائے۔




