بیجنگ :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کا ایک اور اہم اور دلچسپ مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ہمراہ بیجنگ کے مشہورِ زمانہ تاریخی مقام ‘ٹیمپل آف ہیون’ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ وفود کی سطح پر ہونے والے اہم مذاکرات کے فوری بعد کیا گیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان "نرم سفارت کاری” (Soft Diplomacy) قرار دیا جا رہا ہے۔
تاریخی عمارت کے وسیع و عریض صحن میں دونوں عالمی رہنماؤں نے ایک ساتھ چہل قدمی کی اور بین الاقوامی میڈیا کے کیمروں کے سامنے آکر گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ اس موقع پر دونوں صدور کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان برسوں سے جمی برف اب پگھل رہی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے میزبانی کے فرائض خود سرانجام دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو اس قدیم عبادت گاہ کے مختلف حصوں کی سیر کرائی۔ بریفنگ کے دوران صدر شی نے صدر ٹرمپ کو ٹیمپل آف ہیون کے منفرد فنِ تعمیر اور اس کے ثقافتی رموز کے بارے میں بتایا۔ امریکی صدر کو چینی تاریخ میں اس مقام کی اہمیت اور بادشاہوں کے دور کے قصے سنائے گئے۔ صدر ٹرمپ نے قدیم چینی طرزِ زندگی اور اس عالیشان عمارت کی تعمیراتی خوبصورتی میں گہری دلچسپی لی۔
سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ باضابطہ مذاکرات کے بعد اس طرح کے غیر رسمی اور ثقافتی دورے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان موجود اسٹریٹجک دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی ثابت ہوتے ہیں۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام، اعتماد کی بحالی اور ہم آہنگی کے فروغ کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔




