کابل : افغانستان میں طالبان رجیم کی جانب سے اختلافِ رائے کی ہر چنگاری کو دبانے کے لیے ایک نیا اور تزویراتی "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” نافذ کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ بین الاقوامی سیکیورٹی اداروں اور آزاد ذرائع کے مطابق، طالبان حکومت نے ملک گیر سطح پر تنقیدی آوازوں کا گلا گھونٹنے کے لیے انٹرنیٹ سروسز کی بندش اور ڈیجیٹل مواصلات پر سخت ترین سنسرشپ کے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، طالبان کا یہ اقدام ملک میں تیزی سے گرتی ہوئی گورننس اور عوامی بے چینی پر پردہ ڈالنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔عالمی امور کے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے "طالبان کی جانب سے انٹرنیٹ کو محدود اور معطل کرنے کا بنیادی مقصد ان کی انتظامی ناکامیوں، ملک میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں اور عام شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ افغانستان کی حقیقی اور ابتر صورتحال بین الاقوامی فورمز تک پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق، اس سوچے سمجھے ڈیجیٹل بلیک آؤٹ نے نہ صرف افغان شہریوں کو معلومات کے بنیادی حق سے محروم کر دیا ہے بلکہ وہاں کام کرنے والے آزاد صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکناں کے ہاتھ پاؤں بھی باندھ دیے ہیں۔ بین الاقوامی ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشنز نے طالبان کے اس منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دنیا کا بدترین مواصلاتی محاصرہ قرار دیا ہے اور فوری طور پر افغان عوام کی ڈیجیٹل آزادی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔




