کراچی:سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک کی زیر صدارت ہوا، جس میں ملکی معاشی صورتحال، مہنگائی کی شرح اور مالیاتی استحکام سے متعلق مختلف عوامل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور اسے 11.50 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ بلند شرح سود سے نہ صرف صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ برآمدی شعبہ بھی دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق کاروباری لاگت میں اضافے کے باعث سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے شرح سود میں نمایاں کمی ضروری ہے اور سنگل ڈیجٹ سطح کے بغیر معیشت کی بحالی ممکن نہیں۔




