پاکستان
Trending

بلوچستان کے عوام کو وسائل کا جائز حق ملنا چاہیے، ترقی کا سفر مل کر آگے بڑھائیں گے: شہباز شریف

 

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور ان وسائل پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے، صوبے کے مسائل کا حل باہمی مشاورت، مکالمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان بلوچ اور پشتون اقوام کا مسکن ہے، یہاں کے لوگوں کی تاریخ بہادری، مہمان نوازی، رواداری اور عظیم روایات سے عبارت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزت اور وقار کے معاملے پر بلوچ قوم نے ہمیشہ اصولوں کو مقدم رکھا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان ورکشاپ کے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہیں، مکالمے کا مقصد بلوچستان کے عوام کی آواز سننا اور ان کے مسائل کو سمجھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد بلوچستان کے مختلف حصوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور بلوچ عمائدین و عوام نے اپنی مرضی سے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ رقبے کے اعتبار سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے مسائل بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے زیادہ ہیں۔ بلوچستان معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، اس لیے ضروری ہے کہ صوبے کے عوام کو ان وسائل کا بھرپور فائدہ پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور تمام صوبے پاکستان کی ترقی میں برابر کے شریک ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کو طاقت کے بجائے گفت و شنید اور باہمی مشاورت سے حل کرنا ہوگا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔

دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی کے پیچھے دشمن ممالک کے عناصر موجود ہیں۔ فتنہ الخوارج بیرونی ذرائع سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل حاصل کرنے کے لیے بندوق اٹھانے والا محب وطن نہیں ہو سکتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو شناخت کی بنیاد پر قتل کرنا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک این-25 شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے اور اس منصوبے کی تکمیل کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ خطے کی اہم ترین بندرگاہ ہے، جبکہ گوادر ایئرپورٹ پاکستان کے دوست ملک چین کی جانب سے ایک تحفہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطالبے پر 22 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے، جس کے 70 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 40 ارب روپے فراہم کیے۔ این ایف سی ایوارڈ کے موقع پر بلوچستان کے لیے وفاقی فنڈنگ میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ پنجاب نے بھی صوبے کو 11 ارب روپے فراہم کیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور ریاست کی چاروں اکائیاں ملک کی تعمیر و ترقی کے عمل میں برابر کی شریک ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button