پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں انکشاف ہوا ہے کہ چینی کی درآمد پر عائد ٹیکسز کو 18 فیصد سے کم کر کے محض 0.2 فیصد کر دیا گیا۔ اس رعایت پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کمیٹی نے شوگر ملز مالکان، برآمد کنندگان اور برآمدی منڈیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی سربراہی میں ہوا، جس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ کی ہدایت پر چینی کی درآمد کے لیے چار قسم کے ٹیکسز میں نرمی کی گئی، جس کا مقصد 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کو ممکن بنانا تھا۔
چیئرمین پی اے سی نے الزام عائد کیا کہ پہلے برآمد کی اجازت دے کر اور بعد ازاں درآمد کا فیصلہ کر کے "چند شوگر ملز مالکان کو ارب پتی بنایا گیا۔” کمیٹی نے دریافت کیا کہ چینی برآمد کرنے کی اجازت کس نے دی، کس نے برآمد کی اور کن ممالک کو کی گئی۔
سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ چینی کی برآمد و درآمد کا فیصلہ وفاقی وزیر کے مشورے سے کیا گیا جس کی منظوری کابینہ نے دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس ساڑھے 7 لاکھ ٹن چینی برآمد کی گئی جبکہ اس سال 3 لاکھ ٹن درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں چینی کی فی کلو قیمت پنجاب میں 177، سندھ میں 180، خیبر پختونخوا میں 185 اور بلوچستان میں 183 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ پی اے سی ارکان نے مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کارٹلز کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور دیا۔
رکن کمیٹی معین پیرزادہ نے سوال اٹھایا کہ کیا صوبائی حکومتیں واقعی اس "شوگر مافیا” کے خلاف کچھ کر سکتی ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں تمام مفاد یافتہ عناصر شامل ہیں لیکن صارفین کی کوئی نمائندگی نہیں۔ نوید قمر نے مسابقتی کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مداخلت سے صرف کارٹلز کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
اجلاس میں آڈٹ رپورٹ 2023-24 کے تحت نیشنل بینک کی جانب سے ہیسکول پیٹرولیم کو بغیر مناسب مالی تجزیے کے دیے گئے قرض پر بھی غور کیا گیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق اس فیصلے سے 23 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ مقدمے میں 32 افراد نامزد ہیں، جن میں بینک افسران بھی شامل ہیں۔ کیس عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باعث پی اے سی نے معاملہ فی الحال موخر کر دیا۔
0 8 2 minutes read




