ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے امکان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ جب تک واشنگٹن اس کے جوہری مراکز پر ہونے والے حملوں کا ازالہ نہیں کرتا، کسی بھی قسم کی سفارتی پیش رفت ممکن نہیں ہو سکتی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف کی گئی "جارحانہ کارروائیوں” پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 22 جون کو ایرانی جوہری مراکز پر ہونے والے امریکی حملے نہ صرف ملک کے سائنسی بنیادی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے بلکہ انہوں نے جاری جوہری مذاکرات کو بھی شدید طور پر متاثر کیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ تہران کی جانب سے جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں مکمل شفافیت کے ساتھ جاری ہیں، اور ان پر حملے عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک ان حملوں کا باضابطہ ازالہ نہیں کیا جاتا، ہم امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، ایران کی یہ نئی پوزیشن خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حمایت یافتہ کارروائیوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ ان حملوں میں کئی حساس جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جنہیں ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر براہِ راست حملہ تصور کرتا ہے۔
0 14 1 minute read




