پنجند / منچن آباد / گڈو بیراج: پنجاب اور سندھ میں سیلاب کی نئی لہر نے تباہی مچا دی ہے۔ دریائے چناب، ستلج اور سندھ میں طغیانی کے باعث درجنوں دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں، جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی رقبے پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ حفاظتی بند ٹوٹنے اور پانی کے تیز بہاؤ کے باعث نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔
سیلابی ریلا پنجند بیراج سے ٹکرا گیا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 7 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق پانی کی آمد 6,65,576 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ دریا کے کنارے آباد علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
منچن آباد کے علاقے لالیکا میں کشتی الٹنے سے دو نوجوان ڈوب گئے، جن کی لاشیں بستی مموں کا سے ملی ہیں۔ مقامی افراد نے ریسکیو کی تاخیر پر شدید احتجاج کیا اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار متعلقہ حکام کو قرار دیا۔
شجاع آباد کے علاقے موضع دھوندو میں دریائے چناب کی طغیانی نے حفاظتی بند توڑ دیے، جس کے باعث 138 سے زائد بستیاں زیرِ آب آگئیں۔ دھوندو میں بند پر پڑنے والے 80 فٹ چوڑے شگاف کو بند کرنے کی کوشش میں 3 مزدور پانی میں بہہ گئے، جن میں سے 2 کو بچا لیا گیا جبکہ ایک کی تلاش جاری ہے۔
علی پور، کہروڑپکا، احمد پور شرقیہ اور دیگر علاقوں میں گنے، کپاس، چاول اور سبزیاں مکمل طور پر زیر آب آ چکی ہیں۔ موضع جات سنتیکا، یاسین کا، عاکوکا ہٹھاڑ اور سہوکا سمیت کئی دیہات کا شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت بند بنانے میں مصروف ہیں۔
مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں سیلابی پانی کی نکاسی پر دو گروپوں میں جھگڑا ہو گیا۔ لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق تنازعہ ایک علاقے سے دوسرے میں پانی چھوڑنے کی کوشش پر ہوا۔
سیلابی ریلا پنجاب میں تباہی کے بعد سندھ میں داخل ہو چکا ہے۔ کشمور کے کچے کے علاقوں سے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ دادو میں کچھ رہائشیوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے، جس پر حکام نے پانی کی سطح بلند ہونے سے خبردار کیا ہے۔
گڈو بیراج پر چھٹے روز بھی درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق پانی کی آمد 5,12,662 کیوسک اور اخراج 4,80,455 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریا کے کنارے متعدد دیہات زیر آب آ چکے ہیں۔
ادھر حب ڈیم میں پانی کی سطح 338 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ مزید بارشوں کی صورت میں صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ حب ندی کے کنارے رہنے والوں اور کرش پلانٹ مالکان کو مشینری و لیبر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق حکومت سیلابی صورتحال پر مکمل الرٹ ہے اور متعلقہ ادارے متحرک کر دیے گئے ہیں۔




