لاہور/ملتان/علی پور: پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع میں شدید سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے۔ دریاؤں میں طغیانی کے باعث سینکڑوں دیہات زیر آب آ چکے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر، کھڑی فصلیں تباہ، اور بنیادی انفرا اسٹرکچر مفلوج ہو چکا ہے۔
فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق دریائے چناب میں پنجند بیراج کے مقام پر بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ گڈو بیراج میں آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں اسی نوعیت کے شدید سیلاب کا خدشہ ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ نے 14 تا 15 ستمبر کے دوران اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سیلاب کے باعث 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 5,000 سے زائد دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ 45 لاکھ سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی ہے، جس سے غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ملتان: ہیڈ محمد والا، شیر شاہ، اور شجاع آباد کے علاقے مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکے ہیں۔
رحیم یار خان، وہاڑی، راجن پور، احمد پور شرقیہ: سینکڑوں دیہات زیر آب، ہزاروں افراد محصور۔
چاچڑاں: مکانات دریا برد، فصلیں تباہ، رابطہ سڑکیں منقطع۔
صادق آباد: نبی شاہ کے مقام پر زمیندارہ بند ٹوٹنے سے پانی رہائشی علاقوں میں داخل۔
علی پور: انتظامی غفلت پر اسسٹنٹ کمشنر فیض فرید بھٹہ کو ہٹا کر نعمان محمود کو تعینات کر دیا گیا۔
ریسکیو 1122، پاک نیوی، اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے 1 لاکھ 10 ہزار افراد اور 1 لاکھ سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔ مختلف اضلاع میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو خوراک، پانی، ٹینٹ، ادویات اور دیگر ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔
شجاع آباد کے علاقے جلالپور کھاکھی میں کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 40 افراد سوار تھے۔ ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی سے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، جس پر مقامی آبادی نے اطمینان کا اظہار کیا۔
علی پور میں سیلاب متاثرین نے پرائیویٹ کشتی مالکان پر من مانی کرایے اور لوٹ مار کے الزامات عائد کیے ہیں۔ کئی علاقوں میں لوگ چوریوں کے خوف سے اپنے مویشیوں سمیت گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
پنوعاقل، گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ نوڈیرو سمیت دیگر کچے کے علاقوں میں سینکڑوں بستیاں زیر آب آ چکی ہیں، جہاں لوگ امداد کے منتظر ہیں۔




