پاکستان
Trending

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا 29 واں اجلاس، سیلاب متاثرین کے لیے سب سے بڑا امدادی پیکج منظور

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سربراہی میں پنجاب کابینہ کا 29 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں حالیہ تباہ کن سیلاب کو تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے متاثرین کے لیے سب سے بڑا ریسکیو، ریلیف اور امدادی پروگرام کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 17 اکتوبر سے سیلاب متاثرین کو امدادی چیک تقسیم کیے جائیں گے۔ منظور شدہ پیکج کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے، مستقل معذوری پر 5 لاکھ اور معمولی معذوری پر 3 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔ گھروں کو پہنچنے والے نقصان کے مطابق پکے گھر کے مکمل انہدام پر 10 لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان پر 3 لاکھ روپے، کچے گھر کے مکمل گرنے پر 5 لاکھ اور جزوی نقصان پر 1.5 لاکھ روپے دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بڑے مویشی کے مرنے پر 5 لاکھ اور چھوٹے جانوروں کے لیے 50 ہزار روپے معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ فصل کی تباہی کی صورت میں کاشتکاروں کو فی ایکڑ 20 ہزار روپے امداد دی جائے گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سیلاب سے 27 اضلاع کے 4678 مواضعات، 20 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ متاثر ہوا ہے جبکہ مجموعی طور پر 47 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے دوران 26 لاکھ سے زائد افراد اور 21 لاکھ سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔

کابینہ نے پنجاب کے 2855 مواضعات میں آبیانہ اور ایگریکلچر انکم ٹیکس معاف کرنے کی بھی منظوری دی۔ علاوہ ازیں، سولر بجلی کے نرخ میں فی یونٹ 2 روپے کمی، رینٹ اے کار سروس پر 15 فیصد ٹیکس عائد کرنے، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے MBBS فیس 10 ہزار ڈالر مقرر کرنے اور دیگر صوبوں کے امیدواروں کے لیے MDCAT لازمی قرار دینے جیسے اہم فیصلے بھی کیے گئے۔

اس کے علاوہ پنجاب بھر میں 8084 کالج و اسکول ٹیچنگ انٹرنز کی بھرتی، لاہور میں راشن کارڈ پائلٹ پروجیکٹ اور انٹرسٹ فری الیکٹرک ٹیکسی منصوبے کی منظوری دی گئی۔ ججز اور سول مجسٹریٹس کی ہزاروں نئی آسامیاں پیدا کرنے کی بھی اصولی منظوری دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "پنجاب کی کابینہ اور وزراء دفتروں میں بیٹھنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لیے ہیں۔ سیلاب کے باوجود سب سے کم شرح اموات ریکارڈ کی گئی، جس کا سہرا پوری ٹیم کی محنت کو جاتا ہے۔”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button