اسلام آباد:عالمی سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی خصوصی تقریب میں کیے جائیں گے۔
اعلان کے مطابق دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے فوجی کارروائیاں روکنے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے تحت لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جاری عسکری سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی جائیں گی جبکہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز فوری طور پر کیا جائے گا، جبکہ پابندیوں کے خاتمے اور دیگر اہم معاملات پر آئندہ ہفتوں میں مزید تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو عالمی امن کے لیے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ سیاسی اور سفارتی حلقوں نے بھی اس پیش رفت کو خطے میں استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ میں کمی آئے گی اور عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں نے خطے میں امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔




