ڈھاکا: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان صدیوں پرانے گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات موجود ہیں جنہیں مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان ہائی کمیشن ڈھاکا میں دیے گئے استقبالیہ خطاب میں کہی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کئی برسوں کے بعد بنگلہ دیش کا یہ دورہ ان کے لیے باعث مسرت ہے اور وہ بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے دیے گئے دعوت نامے اور گرم جوشی سے ملنے والے استقبال پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے عوام خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے خواہاں ہیں اور موسمیاتی تبدیلی اور سلامتی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیر خارجہ نے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود سے ملاقاتیں کیں، جہاں دو طرفہ تعلقات، علاقائی حالات اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے پر گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے خاص طور پر نوجوانوں کے باہمی رابطے بڑھانے اور مشترکہ مستقبل کے قیام پر زور دیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار جلد ہی بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور مشیر خارجہ توحید حسین سے ملاقات کریں گے، جہاں تجارت، ثقافت، میڈیا، تربیت اور سفری سہولتوں کے حوالے سے متعدد یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔
یہ دورہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ 13 برس بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ اس سے پہلے نومبر 2012 میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا مختصر دورہ ہوا تھا۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان نے بھی ڈھاکا کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے تجارتی تعاون کو بڑھانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
حال ہی میں، دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری داخلے پر اصولی طور پر اتفاق کیا ہے، اور فضائی و بحری رابطے بحال کیے گئے ہیں۔
ماہرین اس تاریخی دورے کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں، جس سے نہ صرف سیاسی اور اقتصادی بلکہ عوامی اور ثقافتی روابط کو بھی نئی قوت ملے گی۔




