نئی دہلی: بھارت کا مقامی سطح پر جنگی طیاروں کی تیاری کا خواب "تیجس” کی صورت میں چکنا چور ہوتا نظر آ رہا ہے۔ 7 فروری کے حالیہ حادثے کے بعد انڈین ایئر فورس کی جانب سے 30 تیجس طیاروں کی پوری فلیٹ کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ بھارتی دفاعی صنعتی نظام کی جڑوں میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، 1981 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ بھارت آج تک اس کا اپنا انجن تیار نہیں کر سکا۔
تیجس کے انجن، ایویونکس اور ریڈار کے لیے امریکہ اور اسرائیل پر مکمل انحصار کیا جا رہا ہے، جس نے "میڈ ان انڈیا” کے نعرے کی حقیقت واضح کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری فلیٹ کو گراؤنڈ کرنا کسی معمولی خرابی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ طیارے کی ساخت (Structural Integrity) اور سسٹم ڈیزائن میں موجود بڑی خامیوں کا اشارہ ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارتی فضائیہ اس وقت ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔سکواڈرن کی کمی: جہاں 42 اسکواڈرن کی ضرورت ہے، وہاں تیجس کی گراؤنڈنگ اور 6 مارچ کو SU-30MKI جیسے طیاروں کے گرنے سے بھارت کی فضائی طاقت تیزی سے سکڑ رہی ہے۔ ففتھ جنریشن طیارے نہ ہونے اور روسی طیاروں پر امریکی تحفظات نے مودی سرکار کو دفاعی طور پر بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق، تیجس کی یہ ناکامی بھارت کی عسکری منصوبہ بندی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ پے در پے حادثات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی فضائیہ اپنی مطلوبہ آپریشنل صلاحیت حاصل کرنے سے اب بھی کئی دہائیاں دور ہے اور سیاسی نعروں کے ذریعے جنگی جنون کی تسکین تو کی جا سکتی ہے، مگر میدانِ جنگ کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔




