پشاور : ایپ سپ کے زیر اہتمام سیکاس یونیورسٹی پشاور میں ’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر ایک اہم آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے خطاب کیا۔
میاں عامر محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’پاکستان کے ادارے کمزور ہیں، اور کمزور ادارے کرپشن کو جنم دیتے ہیں۔ کسی طاقتور کا ہاتھ نہیں روکا جا سکتا، اور یہ کمزوری عام عوام، مڈل کلاس اور غریب طبقے کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘‘
چئیرمین پنجاب گروپ نے مزید کہا کہ ’’گزشتہ 79 سالوں میں پاکستان میں بہت سے لیڈرز آئے، مگر وہ اس ملک کی ترقی میں وہ کردار نہیں ادا کر سکے جو انہیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ بھارت نے بھی ہمارے ساتھ ہی آزادی حاصل کی، لیکن بھارت نے ترقی کی دوڑ میں ہمیں پیچھے چھوڑ دیا۔‘‘ میاں عامر محمود کے مطابق، ’’ہم نے وہ وقت ضائع کیا جب ہم اپنے ملک کو مضبوط بنا سکتے تھے، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج چین دنیا کی سپر پاور بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کے چار صوبے اس کی بنیاد ہیں، اور حکومت کا اصل مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’ورلڈ بینک نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں پاکستان کے 100 سال کے مستقبل کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، کیونکہ کمزور ادارے کرپشن اور ناانصافی کو جنم دیتے ہیں۔‘‘
میاں عامر محمود نے کہا کہ ’’پاکستان میں ایک ایلیٹ طبقہ ہے جو ہر محکمے میں موجود ہے، اور ان کی زندگی سوئٹزرلینڈ سے بھی بہتر ہے۔ یہ طبقہ ملکی وسائل کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے، جس سے عام عوام اور مڈل کلاس کو نقصان پہنچتا ہے۔‘‘
میاں عامر نے کہا کہ ’’پاکستان کے صوبے بہت پرانے ہیں، اور ان میں سے پنجاب پاکستان کا 52 فیصد ہے، جو باقی تین صوبوں سے بڑا ہے۔ پوری دنیا میں کوئی ایسا نظام نہیں جہاں ایک فیڈریٹنگ یونٹ باقیوں سے اتنا بڑا ہو۔ اس سے صوبوں میں توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔‘‘
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ ’’بلوچستان رقبے کے لحاظ سے اتنا بڑا ہے کہ اسے کوئٹہ سے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے۔ پاکستان کی آزادی کے وقت بلوچستان کی آبادی صرف 11 لاکھ تھی، اور آج بھی ہم وہاں امن و امان قائم کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔‘‘




