اسلام آباد : غزہ میں جاری بحران کے حل اور مستقل امن کی تلاش کے لیے "غزہ بورڈ آف پیس” نے پاکستان کو اپنے پہلے باضابطہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دے دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اہم ترین اجلاس 19 فروری کو منعقد ہوگا، جس میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر مشاورت کی جائے گی۔
اس سفارتی پیش رفت کے ساتھ ہی ایک حالیہ سروے نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستانی عوام غزہ کے معاملے پر محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ حیران کن طور پر 73 فیصد پاکستانی غزہ میں امن کی بحالی کے لیے پاکستانی فوجی دستے بھیجنے کے حق میں ہیں، جبکہ 55 فیصد اس مطالبے پر سختی سے قائم ہیں۔
عوام کی بڑی اکثریت (64 فیصد) یہ چاہتی ہے کہ اگر فوجی دستے بھیجے جائیں تو وہ کسی بڑی طاقت کے بجائے مسلم ممالک کے مشترکہ اتحاد کا حصہ ہوں۔ 60 فیصد شہریوں کے نزدیک فلسطینی قیادت کی باضابطہ درخواست اور 57 فیصد کے نزدیک اقوام متحدہ کی منظوری کسی بھی مشن کے لیے لازمی ہے۔
سروے کے مطابق 54 فیصد پاکستانی غزہ کی صورتحال سے مکمل طور پر باخبر ہیں، جن میں سے 43 فیصد کا ماننا ہے کہ وہاں سکیورٹی اور خوراک کی فراہمی میں معمولی بہتری آئی ہے۔ تاہم، 39 فیصد عوام تاحال اس کشمکش میں ہیں کہ کیا پاکستان کو اس امن بورڈ کا حصہ بننا چاہیے یا نہیں۔
پاکستانی عوام اب عالمی طاقتوں کے بجائے اسلامی بلاک اور اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی فریم ورک کے تحت کردار ادا کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان عوامی جذبات اور عالمی سفارتی تقاضوں کو ترازو میں تولتے ہوئے 19 فروری کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرے گی۔




