پشاور: گیلپ پاکستان کے حالیہ عوامی سروے نے خیبر پختونخوا میں حکومت کی کارکردگی پر عوامی عدم اطمینان کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سروے کے مطابق، شہریوں کی اکثریت نے صحت، تعلیم، روزگار، انصاف، اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گورننس کو ناقص قرار دیا ہے، جب کہ خود تحریک انصاف کے ووٹرز نے بھی حکومت پر تنقید کی ہے۔
سروے کے مطابق، صرف 63 فیصد افراد کو صحت کی سہولت میسر ہے، جب کہ 66 فیصد کو گیس کی سہولت حاصل نہیں۔ تقریباً نصف آبادی بجلی کی کمی کا شکار ہے، اور نوجوانوں کے لیے پارک، لائبریری اور کمیونٹی سینٹرز کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔
سروے میں 71 فیصد عوام نے ماضی کے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں 62 فیصد پی ٹی آئی کے حمایتی بھی شامل ہیں۔ 73 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ سرکاری نوکریاں میرٹ کے بجائے سفارش پر دی جاتی ہیں۔
صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھے ہیں: صرف 38 فیصد افراد نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اپنے پیش رو سے بہتر قرار دیا، جب کہ 47 فیصد عمران خان کو بطور وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج صوبائی حکومت کے لیے ایک سخت پیغام ہیں کہ عوام اب صرف نعروں سے مطمئن نہیں، بلکہ عملی کام اور احتساب چاہتے ہیں۔




