پاکستان
Trending

سانحہ گل پلازہ: "ہم پانچ لوگ موت کے سائے میں تھے”، زندہ بچ جانے والے شہری کی جوڈیشل کمیشن میں دہائی

 

کراچی: سانحہ گل پلازہ میں زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرنے والے شہری عبداللہ نے جوڈیشل کمیشن کو اپنے بیان سے لرزہ براندام کر دیا۔ عبداللہ ان 6 افراد میں شامل ہیں جو اس ہولناک واقعے میں معجزاتی طور پر محفوظ رہے، تاہم ان کا بیان عمارت کے حفاظتی انتظامات کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔
عبداللہ نے کمیشن کے سامنے روتے ہوئے بتایا کہ وہ شاپنگ کی غرض سے میزنائن فلور پر موجود تھے جب اچانک آگ نے عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ ان کے بیان کے اہم اقتباسات یہ ہیں۔
گ لگتے ہی پانچ منٹ کے اندر اتنا دھواں بھر گیا کہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا، ہم پانچ لوگ وہاں موجود تھے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے زندگی کی دعا کر رہے تھے۔ عبداللہ نے انکشاف کیا کہ پلازہ میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نہ تو کوئی الارم بجا اور نہ ہی کوئی عملہ رہنمائی کے لیے پہنچا۔
عبداللہ نے بتایا کہ جب سانس لینا محال ہو گیا تو انہوں نے زندگی کی آخری کوشش کے طور پر میزنائن فلور سے نیچے کھڑے ایک ٹرک پر چھلانگ لگا دی۔میں جیسے ہی باہر نکلا، زہریلے دھوئیں کی وجہ سے میرے حواس جواب دے گئے اور میں بے ہوش ہو گیا۔ ہوش آیا تو خود کو سول اسپتال کے بیڈ پر پایا۔
شہری کے اس بیان نے جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کا رخ موڑ دیا ہے۔ کمیشن اب اس نکتے پر غور کر رہا ہے کہ کیا عمارت میں آگ بجھانے اور لوگوں کو بحفاظت نکالنے کا کوئی بھی نظام موجود تھا یا نہیں؟ عبداللہ کے مطابق وہاں موجود دیگر 4 افراد کی حالت بھی انتہائی تشویشناک تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button