واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وسطی ایشیائی ملک قازقستان اب باضابطہ طور پر ابراہم معاہدے کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد کیا گیا، جس میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف بھی موجود تھے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس پیشرفت کو عالمی امن، تعاون اور خوشحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے امید کی جا رہی ہے کہ دیگر ممالک بھی اس کا حصہ بن کر اسے مزید مستحکم کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ قازقستان کے صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس سے ابراہم معاہدے کی اہمیت اور اثرات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے غزہ میں انٹرنیشنل فورس کے تعینات ہونے کے امکان کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ اگر حماس نے امن معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے قازقستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک شاندار ملک ہے جس کی قوم باصلاحیت قیادت کے تحت عالمی امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان میری دوسری مدت صدارت میں ابراہم معاہدے میں شامل ہونے والا پہلا ملک ہے۔
قازقستان کے صدر توقایف نے اس موقع پر صدر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "آپ نے 8 ماہ کے اندر 8 جنگوں کو روک کر عالمی امن کے لیے بے مثال کام کیا ہے۔”
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف نے کہا تھا کہ ایک اور ملک ابراہم معاہدے میں شامل ہونے جا رہا ہے، تاہم انہوں نے اس ملک کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔ اب یہ واضح ہو گیا کہ وہ ملک قازقستان تھا، جو اب باضابطہ طور پر اس معاہدے کا حصہ بن چکا ہے۔
ابراہم معاہدہ، جو 2020 میں شروع ہوا تھا، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک اہم قدم تھا، اور اب اس معاہدے میں قازقستان کی شمولیت کو عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ سمجھا جا رہا ہے۔




