نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے بدامنی، ماحولیاتی بحران اور تنازعات کی لپیٹ میں آ رہی ہے، اور ایسے وقت میں اقوام متحدہ کی مؤثر قیادت ناگزیر ہے۔
انہوں نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جرات مندانہ قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعظم نے مئی میں مشرقی سرحد پر ہونے والی بھارتی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور 7 بھارتی جنگی طیارے تباہ کیے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا اور قوم نے اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو کر ثابت کر دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، کمزوری نہیں۔
وزیراعظم نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام اور قدس شریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ "غزہ کی صورتحال عالمی ضمیر پر بدنما داغ ہے۔ کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک دن کشمیریوں کو بھی ان کا حق خود ارادیت مل کر رہے گا۔
وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کو "ہماری بقا کے لیے خطرہ” قرار دیا اور کہا کہ پاکستان پرامن، خودمختار افغانستان کا خواہاں ہے۔ افغان حکومت کو دہشتگرد عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔وزیراعظم نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش دہراتے ہوئے خبردار کیا کہاسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو پاکستان جنگ تصور کرے گا۔ پانی ہمارے عوام کی لائف لائن ہے۔




