نیویارک: اقوامِ متحدہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی شدید فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں جنگی بحری جہازوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی، فضائی مشقوں اور غیر معمولی فوجی نقل و حرکت نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ عالمی برادری خطے کو ایک نئی جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب ایران نے اقوامِ متحدہ کو لکھے گئے ایک باضابطہ خط میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا بھرپور حق استعمال کرے گا۔ تہران نے واضح کیا کہ کسی بھی تصادم کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوگی۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق، امریکا کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے بحری بیڑے ‘جیرالڈ فورڈ’ کی بحیرہ روم میں تعیناتی اور پرتگال میں فضائی بیڑے کو الرٹ کرنا محض دھمکی نہیں بلکہ ایک جامع پلان کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر امریکا حملہ کرتا ہے تو اس کا بنیادی مقصد ایرانی قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانا اور حکومت کا تختہ الٹنا ہوگا۔
0 7 1 minute read




