بین الاقوامی
Trending

ظہران ممدانی ۔۔۔مسٹر الائچی سے مسٹر انصاف تک: سرحدوں سے ماورا ایک سیاسی کہانی

 

ظہران ممدانی کی کہانی کسی عام سیاستدان کی نہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کا سفر ہے جس نے فن، فکر اور سیاست کو ایک ہی دھاگے میں پرو دیا ، ایک ایسا سفر جو یوگنڈا کی دھرتی سے شروع ہوا، بھارت کی جڑوں سے جڑا، اور برونکس کی گلیوں میں پروان چڑھا۔ وہ سیاست کو طاقت نہیں بلکہ تخلیق سمجھتے ہیں؛ ان کے نزدیک سیاست وہ فن ہے جو معاشرے کو آئینہ دکھاتا ہے اور لوگوں کو خواب دیکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

ظہران کوامے ممدانی 1991 میں کمپالا، یوگنڈا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پروفیسر محمود ممدانی جو نوآبادیاتی تاریخ اور سیاسی فکر کے ممتاز اسکالر ہیں — نے انہیں فکر کی گہرائی عطا کی، جب کہ والدہ میرا نائر — مشہور بھارتی فلم ساز نے ان کے اندر اظہار اور تخلیق کا شعور جگایا۔ یہی امتزاج، علم اور فن کا، بعد میں ان کی سیاست کی پہچان بن گیا۔

ابتدائی بچپن جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں گزرا۔ سات برس کی عمر میں وہ نیویارک کے برونکس پہنچے، جہاں تارکین وطن کی زندگی، معاشی جدوجہد اور نابرابری نے ان کی سوچ کو بدل دیا۔ وہ اسی ماحول میں جوان ہوئے جہاں “محنت” صرف ضرورت نہیں، بقا کی شرط ہے۔ یہی احساس بعد میں ان کی سیاست کی بنیاد بنا۔

تعلیم کے دوران انہوں نے Africana Studies میں گریجویشن کیا اور طلبہ تحریکوں میں سرگرم رہے۔ فلسطینی عوام کے حق میں ان کی آواز نے انہیں ابتدائی عمر میں ہی انصاف اور مزاحمت کی علامت بنا دیا۔ 2024 میں انہوں نے شامی نژاد امریکی فنکارہ راما دواجی سے شادی کی — ایک ایسا رشتہ جو نظریے اور تخلیق، دونوں کی ہم آہنگی کا مظہر ہے۔

سیاست میں آنے سے پہلے زہران “مسٹر کارڈیمم” (Mr. Cardamom) کے نام سے ایک ریپر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کا 2019 کا گانا “نانی” جنوبی ایشیائی شناخت اور ثقافتی مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔ اس گانے میں مدھور جعفری نے ایک ایسی نانی کا کردار نبھایا جو روایت کے سانچوں کو توڑتی ہے۔ بعد میں پاکستانی گلوکار علی سیٹھی کے ساتھ ان کی تخلیقی شراکت نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ زہران کی دنیا سرحدوں سے بڑی ہے۔

2020 میں انہوں نے نیویارک کی ریاستی اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ ایک دہائی سے کامیاب رہنے والے امیدوار کو شکست دے کر وہ پہلی بار اسمبلی میں پہنچے ، پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈا نژاد، اور تیسرے مسلمان جنہوں نے نیویارک اسمبلی میں جگہ بنائی۔ ان کا انتخابی نعرہ سادہ مگر عمیق تھا۔
ان کا نظریہ جمہوری سوشلسٹ سیاست پر مبنی ہے ایسی سیاست جو منافع کے بجائے انسان پر یقین رکھتی ہے، اور دولت کے بجائے برابری پر۔ وہ برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے ترقی پسند رہنماؤں کے قریبی نظریاتی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

ظہران کی مہم اپنی تخلیقی رنگینی کے باعث یادگار بن گئی۔ ایک ویڈیو میں وہ “آم کی لسی” کے پانچ گلاسوں سے ووٹنگ کے پیچیدہ نظام کی وضاحت کرتے ہیں سیاست کو سمجھانے کا یہ انداز ان کے فنکارانہ پس منظر کی جھلک دیتا ہے۔ مگر ہلکے لہجے کے پیچھے ایک سنجیدہ عزم چھپا ہے۔

ایک مباحثے کے دوران جب سابق گورنر اینڈریو کومو نے ان کا نام غلط لیا، زہران نے مسکراتے ہوئے مگر پُر اعتماد انداز میں کہامیرا نام ممدانی ہے۔ اور یاد رکھیں، میں نے کبھی شرمندگی کے باعث استعفیٰ نہیں دیا۔ میں نے کبھی غریبوں کے لیے میڈیکیڈ میں کٹوتی نہیں کی۔ میں آپ نہیں ہوں، مسٹر کومو۔ یہ جملہ ان کے سیاسی وقار کی علامت بن گیا۔

ان کی مہم میں 40 ہزار سے زائد رضاکار شامل تھے، جو ہندی، اردو، بنگلہ اور ہسپانوی زبانوں میں ووٹروں تک پہنچے — ایک ایسا اتحاد جو صرف سیاسی نہیں بلکہ ثقافتی تھا۔فلسطینیوں کے حق میں ان کی آواز نے انہیں حمایت کے ساتھ ساتھ تنقید کا نشانہ بھی بنایا، مگر ظہران ہمیشہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔آج ظہران ممدانی امریکی سیاست میں اس نئی نسل کی علامت ہیں جو فن کو نعرہ، اور انصاف کو عمل بناتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button