کابل: طالبان، جو برسوں بھارت کو "کافر ریاست” قرار دیتے رہے، اب نئی دہلی کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، ٹی ٹی پی کے معاملات اور مہاجرین کے انخلا کے بعد طالبان کا جھکاؤ بھارت کی جانب واضح ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان بھارت سے گندم کی فراہمی، سرمایہ کاری، بندرگاہوں تک رسائی اور تجارتی راہداریوں کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ طالبان نے 2001 میں بامیان کے بدھ مجسمے تباہ کیے تھے، مگر اب وہ اسی حکومت کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔ نئے دوروں میں طالبان نے کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کے مسائل پر مکمل خاموشی اختیار کی ہے، جس سے ان کی سابقہ پالیسی میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔




