انتہا پسند تنظیمیں اب مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے اپنے پیغامات اور پروپیگنڈا کو زیادہ مؤثر انداز میں پھیلا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، AI وائس جنریٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے رہنماؤں کی آوازیں اور تقاریر دوبارہ تخلیق کی جا رہی ہیں، جس سے مواد کی رسائی اور اثر میں اضافہ ہو رہا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، آن لائن دہشت گردی پر نظر رکھنے والے ادارے ٹیک اگینسٹ ٹیررازم کے تجزیہ کار لوکاس ویبر نے بتایا کہ انتہا پسند گروہ AI سے لیس ترجمہ اور وائس کلوننگ ٹولز استعمال کر کے اپنے پیغامات کو مختلف زبانوں میں جذبات اور شدت کے ساتھ پھیلا رہے ہیں۔
نیو نازی گروہوں نے ہٹلر کی تقاریر کے جدید انگریزی ورژنز تیار کر کے انسٹاگرام، ایکس اور ٹک ٹاک پر کروڑوں بار نشر کیے ہیں۔ اسی طرح جیمز میسن کی کتاب "سیج” کو AI کی مدد سے آڈیو بُک میں تبدیل کیا گیا تاکہ پرانے نظریات کو نوجوان ارکان تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔
ویبر کے مطابق، دیگر میڈیا نیٹ ورکس بھی AI کی مدد سے تحریری مواد کو ٹیکسٹ ٹو اسپیچ میں بدل کر پروپیگنڈا کو ملٹی میڈیا شکل دے رہے ہیں، جس سے انتہا پسندی کے مواد کی پہنچ اور اثر میں اضافہ ہو رہا ہے۔




