اسلام آباد:افغان سرزمین سے ہونے والے حملے میں چار پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد پاکستان نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفترِ خارجہ طلب کر لیا، جہاں انہیں باضابطہ طور پر ڈی مارش دیا گیا۔
دفترِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں دہشت گرد گروہوں، بالخصوص فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کی موجودگی اور سرگرمیوں پر شدید تحفظات ہیں۔ بیان کے مطابق ان عناصر کو افغان سرزمین پر حاصل مبینہ محفوظ پناہ گاہیں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے اور افغان طالبان سے فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔




