اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و ترقی کے لیے افغانستان میں مستقل استحکام کو ناگزیر سمجھتا ہے، اسی لیے کابل قیادت کو صاف پیغام دیا گیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
اسلام آباد میں نیوز بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں میں ان کے ماسکو، بحرین، برسلز اور افغانستان کے دورے ہوئے جہاں پاکستان کے معاشی اور سفارتی مفادات کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔ ماسکو میں ایس سی او سربراہان حکومت اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے معاشی ترجیحات، علاقائی رابطوں اور توانائی تعاون پر پاکستان کا مؤقف رکھا گیا۔
اسحاق ڈار کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور غزہ پر تبادلہ خیال ہوا، جب کہ انہیں پاکستان آنے کی دعوت بھی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے، ایس سی او بینک کے قیام اور مقامی کرنسی میں تجارت کے حوالے سے بھی مفید گفتگو ہوئی۔
برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، جی ایس پی پلس، افغانستان اور انسداد دہشت گردی سمیت اہم امور زیر بحث آئے، جبکہ افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کا معاملہ بھی کھل کر اٹھایا گیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی فورمز پر ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہا ہے اور غربت میں کمی کے لیے مؤثر کاوشیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔




