تحریر: سعدیہ مجید
“قانون بدل گیا… ورنہ اسلام تو صدیوں پہلے کہہ چکا تھا”
کہانی نظام کی ناکامی کی تھی دین کی نہیں
گھر کی خاموش دیواروں کے اندر ہونے والا ظلم اکثر شور نہیں مچاتا۔ چیخیں بچوں کے دلوں میں دھنسی رہتی ہیں، آنکھیں عورتوں کے اندر ہی سمٹ جاتی ہیں، اور الفاظ ہمارے سماجی تکیے میں دب کر مر جاتے ہیں۔ لیکن ظلم تو ظلم ہے، چاہے نرم لہجے میں ہو یا بلند ہاتھ سے۔ اسی پس منظر میں جب پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد ایکٹ 2025 منظور کیا، تو ریاست نے پہلی بار صاف لفظوں میں اعتراف کیا کہ گھر کے اندر گالی دینا بھی جرم ہے، تحقیر بھی جرم ہے اور ذہنی اذیت بھی جرم ہے۔ قانون پڑھ کر حیرت نہیں ہوئی، دیر سے آیا مگر درست آیا۔ مگر ایک سوال بےاختیار ذہن میں ابھرا کہ یہ کوئی نئی اخلاقیات تو نہیں تھیں۔ یہ تو اسلام نے سو نہیں، چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا۔ پھر ہم خاموش کیوں رہے؟
اسلام نے تو آغاز ہی میں ظلم کو حرام قرار دے دیا تھا۔ قرآن نے میاں بیوی کے رشتے کو سکون، محبت اور حسنِ سلوک پر قائم کیا، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔ نہ اسلام نے گالی کی اجازت دی، نہ تحقیر کی کھڑکی کھولی، نہ ذہنی اذیت کو شوہر کا حق قرار دیا۔ دین تو کہتا ہے کہ ظلم کی ایک پلک بھی گناہ ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ جب اسلام کی تعلیمات اتنی صاف تھیں تو ہمارے سماجی اور قانونی نظام نے گھریلو گالی، طعنہ، تحقیر اور ذہنی تشدد کو صدیوں تک “گھریلو مسئلہ” کہہ کر کیوں چھوڑے رکھا؟
اصل کہانی اسلام کی نہیں، ہمارے نظام کی تھی۔ تعزیراتِ پاکستان میں چند دفعات تھیں، مگر روزمرہ گھریلو تحقیر، دھونس، بلیک میلنگ، مالی کنٹرول اور مسلسل ذہنی اذیت کے لیے نہ تعریف تھی نہ تحفظ۔ پرانی عدالتوں کے پاس کوئی ایسا فریم ورک نہ تھا جو فوری پروٹیکشن دے سکے۔ یہ خلا اسلام کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ہمارے غیر حساس قانونی ڈھانچے اور سماجی بے حسی کی وجہ سے تھا۔ ہم نے برسوں تک ایسے رویّوں کو “برداشت” اور “خاندانی شرم” کے نام پر چھپا کر رکھا۔
علمائے دین کبھی ظلم کے حق میں نہیں تھے، مگر قانون سازی کے میدان میں ان کی غیرحاضری نے خاموشی کو مضبوط رکھا۔ کچھ نے گھریلو معاملات کو نجی دائرہ سمجھ کر بات کرنے میں احتیاط برتی۔ کچھ کو ڈر تھا کہ سماجی ڈھانچہ کمزور نہ ہوجائے۔ کچھ سمجھتے رہے کہ جسمانی تشدد پر اخلاقی وعظ کافی ہیں اور ذہنی تشدد سماجی تربیت کا حصہ ہے، قانون کا نہیں۔ اس طرح نبوی ﷺ اخلاقیات تو ممبروں پر موجود رہیں مگر ان کا قانونی ترجمہ نہ ہو سکا۔ فقہی کتابوں میں مثالیں بھی تھیں، عثمانی عدالتوں میں نظیریں بھی، مگر برصغیر کے قانونی نظام میں ان کی گونج کبھی پوری طرح نہیں پہنچی۔ یہ خاموشی حمایت نہیں تھی بلکہ غفلت تھی، ترجیحات کا زوال تھی، اور قانون کی روح کو سمجھنے کی کمزوری تھی۔
اب جب 2025 کا قانون پہلی بار گھر کی خاموش اذیتوں کو زبان دیتا ہے، تو کچھ حلقے اسے مغربی ایجنڈا کہہ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی اصول اسلام نے سب سے پہلے دیے تھے۔ یعنی یہ قانون کوئی نئی تہذیب نہیں لارہا بلکہ وہی سچ ریاست کے الفاظ میں لکھ رہا ہے جسے ہم نے خود صدیوں تک نظرانداز کیا۔ گالی، طعنہ، تحقیر، ذہنی اذیت—یہ سب اسلام میں ہمیشہ ناجائز تھیں۔ اب ریاست بھی کہہ رہی ہے کہ یہ ناقابلِ قبول اور قابلِ سزا ہیں۔
تاہم قانون کافی نہیں۔ معاشرے کو قانون زندہ رکھتا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ خطبوں میں ظلم کی نفسیاتی شکلوں کا ذکر ہو، میڈیا اسے خاندانی جھگڑا کہہ کر ہلکا نہ کرے، عدالتیں فوری پروٹیکشن آرڈر جاری کریں، پولیس اسے سنجیدہ جرم سمجھے، اور گھروں میں رکے ہوئے آنسو باہر آ سکیں۔ تبدیلی قانون نہیں لاتا، تبدیلی شعور لاتا ہے۔
بطور قوم ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم دیر سے جاگے ہیں۔ اسلام تو بہت پہلے ظلم کے خلاف صف کھڑی کر چکا تھا، قانون اب جا کر اس صف میں کھڑا ہوا ہے۔ فاصلہ ہمارے رویّوں نے پیدا کیا تھا، اور اصلاح بھی ہمارے رویّوں سے ہی آئے گی۔ گھر کی خاموش دیواریں اب مزید چپ رہنے کے قابل نہیں۔ اب ہمیں وہی کہنا ہوگا جو اسلام نے چودہ سو سال پہلے کہہ دیا تھا: ظلم چاہے لفظوں میں ہو یا ہاتھوں میںناجائز، نامنظور، اور ناقابلِ برداشت ہے۔
تحریر:اک سوچ ۔۔۔سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




