بین الاقوامی
Trending

برطانیہ کا عسکری مہم جوئی میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار

 

لندن/پیرس: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کو اس وقت شدید سفارتی دھچکا لگا جب برطانیہ نے کسی بھی عسکری آپریشن کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔ برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں اشتعال انگیزی بڑھانے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سمندری تجارت کی آزادی اور بین الاقوامی گزرگاہوں کا تحفظ صرف عالمی قوانین کے احترام سے ہی ممکن ہے، نہ کہ فوجی طاقت کے استعمال سے۔برطانوی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے سخت موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے متعلق کسی بھی ایسی عسکری مہم جوئی میں شامل نہیں ہوگا جو خطے کو بڑے بحران کی طرف دھکیل دے۔ ہمیں اس وقت اشتعال انگیزی کے بجائے سفارت کاری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے لبنان میں فوری طور پر جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ انسانی المیے سے بچا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کے قریب ترین اتحادی کی جانب سے اس انکار نے ثابت کر دیا ہے کہ یورپ امریکہ کی "جارحانہ پالیسی” کے ساتھ کھڑے ہونے کے حق میں نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملے پر یکطرفہ امریکی فیصلے عالمی برادری میں مقبول نہیں ہو رہے۔ سفارتی اور مشترکہ حفاظتی اقدامات کو فوجی طاقت پر فوقیت دی جا رہی ہے۔

اس نئی صف بندی نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملے پر مغربی طاقتیں اب ایک صفحے پر نہیں رہیں، جس کا براہ راست فائدہ تہران کو پہنچ سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button