کراکس:وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
سپین نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے پُرامن مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ اسپین کے سفارتخانے اور قونصل خانے مکمل طور پر فعال ہیں۔
یورپی یونین، روس، چین، ایران، جرمنی، فرانس اور دیگر ممالک نے امریکی کارروائی کی مذمت کی اور کشیدگی کم کرنے، بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔
روس نے اسے “مسلح جارحیت” قرار دیا، ایران نے غیر قانونی کہا، جبکہ چین نے فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ دیگر یورپی ممالک نے یکطرفہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔




