اسلام آباد: قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں، خاص طور پر فتنہ الہندوستان کے لیے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ موقف 2025 سے سرکاری ریکارڈ میں شامل ہے اور شواہد سے بھی تصدیق شدہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی حمایت کے لیے ایسے پراکسی نیٹ ورک کے ذریعے منظم پروپیگنڈا چلایا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بی وائی سی نے ہسپتالوں سے ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں تحویل میں لینے کی کوشش کی، جسے ذرائع ابلاغ نے قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کو فوری طور پر “لاپتہ افراد” کے بیانیے میں شامل کر کے حقائق اور شناخت کو منظر عام پر آنے سے پہلے متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔




