اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیانات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں سے ہمدردی رکھنے والوں کے لیے پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کو دہشتگردوں سے لگاؤ ہے تو افغانستان چلے جائیں، بصورتِ دیگر ریاست خود انہیں وہاں پہنچا سکتی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ دنیا کے دو درجن سے زائد ممالک افغانستان کو دہشتگردی کا گڑھ قرار دے چکے ہیں، ایسے میں ریاست کو کمزور کرنے اور بلیک میل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سیاسی طور پر ناپختہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا طرزِ عمل ایک انڈر نائنٹین بچے جیسا ہے۔
وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ہو یا کوئی بھی سیاسی رہنما، پاکستان مخالف مؤقف کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دہشتگردوں کے حمایتیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور پاکستانیوں کے خون سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت ماضی میں بھی دہشتگرد کو دہشتگرد کہنے سے گریز کرتی رہی ہے، حالانکہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مختلف صوبوں کے دورے کرتے رہے، مگر کسی شہید کے گھر جا کر تعزیت کیوں نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی تحریک چلانا جمہوری حق ہے، لیکن ملکی سلامتی اور استحکام کے خلاف کسی بھی رویے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ریاست ایسے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔




