کی بورڈ اور ماؤس سے اپنے ڈیجیٹل آلات استعمال کرنے کا وقت جلد پرانا ہو جائے گا۔ ہم جلد ہی اپنے کمپیوٹرز، سیل فونز اور ٹیبلیٹس کو کلائی کے ہلکے ہلکے اشاروں سے آپریٹ کر سکیں گے
معروف ٹیک کمپنی میٹا (Meta) کے ریئلٹی لیبز ڈویژن کے ماہرین نے ایک جدید تجرباتی بینڈ تیار کیا ہے جو کلائی پر باندھا جاتا ہے۔ یہ بینڈ انسانی ہاتھ کے اشاروں اور انگلیوں کی انتہائی باریک حرکات کو محسوس کر کے انہیں ڈیجیٹل آلات کے لیے مخصوص کمانڈز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ورچوئل رئیلٹی، اگمینٹڈ رئیلٹی اور دیگر سمارٹ ڈیوائسز کو استعمال کو بالکل نئے انداز میں متعارف کرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بینڈ صارف کو ماؤس، ٹچ اسکرین یا کی بورڈ کی ضرورت کے بغیر اسکرین کے ارد گرد کرسر کو دبانے یا ایپ کھولنے میں تعاون کرے گا۔ یہاں تک کہ ہوا میں لکھے جانے والے الفاظ کو بھی سکرین پر ٹائپ کیا جا سکے گا۔
سائنس جرنل نیچر میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں کلائی پر باندھے جانے والے اس بیبنڈ کے فیچرز کو آشکار کیا گیا ہے۔ SEMG-RD نامی ٹیکنالوجی سے کلائی کا بینڈ دماغ سے ہاتھ کو ملنے والے سگنلز کو کمانڈ میں تبدیل کرے گا اور صارف اپنی ڈیوائس کو کنٹرول کر سکے گا

کیا یہ ٹیکنالوجی انقلاب برپا کر سکے گی؟
اگرچہ ٹیکنالوجی کی بہت سی ممکنہ تجارتی ایپلی کیشنز ہیں، جیسے کہ گیمنگ اور سمارٹ ہوم کنٹرول، مگر بینڈ بنانے والی ٹیم کا فوکس شدید معذوری کے شکار افراد کی مدد پر مرکوز ہے۔ ٹیم کے افراد اس دریافت کی کوشش میں ہے کہ ٹیکنالوجی ریڑھ کی ہڈی کے زخم والے افراد کو کس طرح فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
مقالے میں بتایا گیا ہے کہ میٹا کا تیار کردہ کلائی بینڈ غیر معمولی حد تک حساس ہے اور یہ انسانی جسم کے نہایت کمزور اور باریک پٹھوں کی سرگرمیوں کو بھی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بینڈ ان حرکات کو ڈیجیٹل کمانڈز میں منتقل کرتا ہے، جس سے ایسے افراد بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو ہاتھوں کی حرکت سے مکمل طور پر معذور ہوں۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خصوصی افراد کو کمپیوٹر، اسمارٹ فون یا دیگر ڈیجیٹل آلات کے استعمال کی نئی راہیں فراہم کر سکتی ہے، جو ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں روایتی ٹچ اسکرینز اور کنٹرولرز کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، اور انسانی حرکات ہی بنیادی ان پٹ بن سکتی ہیں۔




