کراچی: کراچی کی سیاست میں بڑا اپ سیٹ؛ پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے پر سندھ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی سکیورٹی واپس لے لی۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سمیت تمام بڑے ناموں سے پولیس پروٹوکول ہٹا لیا گیا۔ سکیورٹی سے محروم رہنمائوں میں خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور علی خورشیدی ہیں۔
سندھ میں سیاسی محاذ آرائی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایم کیو ایم کی جانب سے حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر کی جانے والی شدید نکتہ چینی اور "سانحہ گل پلازہ” کے تذکرے نے سندھ حکومت کو برہم کر دیا۔ انتقامی کارروائی کے طور پر صوبائی انتظامیہ نے ایم کیو ایم کے اہم ترین ستونوں کی سکیورٹی واپس لے لی ہے، جس سے ان رہنماؤں کی نقل و حرکت محدود ہونے کا خدشہ ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر جمہوری قرار دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ "ایک طرف شہر میں جرائم بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف سیاسی قیادت کو نہتا کر کے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا رہا ہے۔




