کراچی: گل پلازہ آتشزدگی کیس میں انسانی جانوں کے زیاں اور انتظامی غفلت پر سندھ حکومت نے بڑا ایکشن لے لیا ہے۔ واقعے میں جاں بحق ہونے والے مزید 30 افراد کی باقیات کی شناخت کے بعد مجموعی شناخت شدہ افراد کی تعداد 69 تک جا پہنچی ہے، جبکہ مزید 3 کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
حکومت نے سانحے کی ابتدائی رپورٹ کے بعد سخت کارروائی کرتے ہوئے درج ذیل افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے، سول ڈیفنس: ڈائریکٹر اور ایڈیشنل کنٹرولر، واٹر بورڈ و دیگر: چیف انجینئر بلک اور انچارج ہائیڈرنٹ۔
سندھ حکومت نے معاملے کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ سینئر جج کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کے لیے لکھے گئے خط میں ذمہ داروں کے تعین اور عبرتناک سزا کی سفارش کی گئی ہے۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ عمارت کی غیر قانونی لیز میں ملوث تمام افراد کو تحقیقات کے دائرے میں لایا جائے گا۔ جس نے بھی قواعد کی خلاف ورزی کر کے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالا، وہ قانون سے نہیں بچ سکے گا۔




