پاکستان
Trending

فتنہ الخوارج: بیس سالہ بربریت اور مقدس مقامات کی پامالی

 

اسلام آباد : پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے پیچھے چھپا اصل چہرہ "فتنہ الخوارج” کی صورت میں مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ حالیہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، اس فتنے نے اپنے مذموم سیاسی اور خارجی مقاصد کے لیے سب سے زیادہ وار ان مقامات پر کیے جنہیں مسلمان سب سے مقدس مانتے ہیں۔
رپورٹ میں ان واقعات کا سلسلہ وار ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔ وفاقی دارالحکومت (فروری 2026)، اسلام آباد کی مسجد میں حالیہ خودکش دھماکہ اس بات کا اعلان ہے کہ یہ گروہ کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔پشاور اور ہنگو (2023) پولیس لائنز پشاور اور ہنگو کی مساجد میں عبادت کے دوران سینکڑوں معصوم نمازیوں کو خون میں نہلایا گیا۔ تاریخی سفاکی (2010-2022): کوچہ رسالدار (پشاور)، کوہاٹ اور پاراچنار کی مساجد و امام بارگاہوں میں ہونے والے حملے ان کی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ تھے۔
سندھ اور قبائلی پٹی: شکارپور (2015) اور مہمند ایجنسی (2016) کی مساجد بھی ان شرپسندوں کے بزدلانہ حملوں سے محفوظ نہ رہ سکیں۔
رپورٹ کا سب سے لرزہ خیز انکشاف یہ ہے کہ فتنہ الخوارج کے کارندوں نے صرف جانیں ہی نہیں لیں بلکہ مساجد کے اندر ناچ گانے اور بے حرمتی جیسے ایسے گھناؤنے افعال سرانجام دیے جو کسی بھی کلمہ گو کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ:
ان کا مقصد اسلام کی خدمت نہیں بلکہ ریاست کو اندرونی طور پر کھوکھلا کرنا ہے۔ یہ گروہ مذہب کو محض ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر کے عوام میں خوف پھیلاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button