تہران : ایران نے خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے مذاکرات اور دفاع کا دوہرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے امریکی اقدامات کو کڑی نگرانی میں رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امن کے لیے پُرعزم ہے اور اسے واشنگٹن سے مثبت پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
سفارتی حلقوں میں اس وقت 26 فروری کی تاریخ کو کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے جب عمان میں ایران اور امریکہ کے نمائندے آمنے سامنے ہوں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ایرانی وفد جنیوا میں امریکی ایلچی اسٹیو وائٹکوف سے بھی ملاقات کرے گا تاکہ بڑھتے ہوئے بحران کو ٹالا جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عالمی برادری کو واضح کر دیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر امریکہ نے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ایران اپنا دفاع کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تمام ضروری تیاریاں مکمل ہیں۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم پیش رفت سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا علی لاریجانی پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ سپریم لیڈر نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے ذریعے لاریجانی کو غیر معمولی اختیارات سونپ دیے ہیں۔
سیاسی مبصرین اسے ایران کے "جانشینی پلان” کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد بحرانی دور میں اقتدار اور پالیسیوں کو ایک مضبوط اور تجربہ کار شخصیت کے ہاتھ میں دینا ہے۔




