سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران وکیل عابد زبیری نے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق دلائل مکمل کر لیے۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 191 اے فل کورٹ کی راہ میں رکاوٹ نہیں، عدالت چاہے تو چیف جسٹس کو فل کورٹ بنانے کا اختیار واپس بھجوا سکتی ہے۔
ججز نے فل کورٹ، آئینی بینچ اور جوڈیشل کمیشن کے اختیارات پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ آئین کی تشریح میں احتیاط ضروری ہے۔ جسٹس عائشہ ملک، جسٹس مسرت ہلالی اور دیگر ججز نے فل کورٹ کے قیام سے متعلق قانونی نکات پر تفصیلی گفتگو کی۔ عدالت نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔




